آپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں
Poet: Farrukh Izhar By: Farrukh Izhar, Karachiآپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں
اک اذیت میں مبتلا ہوں میں
راہ یہ کس طرف کو جاتی ہے
بے خطر جس پہ چل پڑا ہوں میں
ہے وہ عالم کہ حال بھی اپنا
اب تو اوروں سے پوچھتا ہوں میں
اس نے اک بار تھا چھوا مجھ کو
اور اب تک مہک رہا ہوں میں
آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے
آپ کو کتنا سوچتا ہوں میں
اتنا میں خود کو جانتا بھی نہیں
جس قدر تم کو جانتا ہوں میں
اپنے اندر نہ ڈھونڈیے مجھ کو
اپنے اندر چھپا ہوا ہوں میں
سچ تو یہ ہے کہ مصلحت کے سبب
جھوٹ بھی خوب بولتا ہوں میں
اب تو مجھ کو گلے لگا لیجیے
سارے شکوے بھلا چکا ہوں میں
کون ہے مجھ سے کھو گیا تھا جو
کون ہے کس کو ڈھونڈتا ہوں میں
سچ بتاؤں تو میری جاں تجھ کو
جان سے بڑھ کے چاہتا ہوں میں
اک فقط تیری یاد ہے دل میں
ورنہ سب کچھ گنوا چکا ہوں میں
آج تم یاد کیوں نہیں آئے
آج تم سے بہت خفا ہوں میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






