منصور سا پھر اٹھا نہیں ہے

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

منصور سا پھر اٹھا نہیں ہے
یہ کھیل نیا سجا نہیں ہے

دل کا جو کوئی کھرا نہیں ہے
ہر شخص بھی ایک سا نہیں ہے

اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے
دل سے وہ مگر جدا نہیں ہے

ہر سو ہیں قیامتیں جہاں میں
محشر سا کہاں بپا نہیں ہے

کیا جانے وہ کیف و مستی کیا ہے
جس کو کہ تیرا نشہ نہیں ہے

آ کے تیرے در پہ سر جھکا دے
جس کا کوئی آسرا نہیں ہے

کیسے کسی کو خبر ہو اس کی
جس سمت کوئی گیا نہیں ہے

سب کو ہیں شکایتیں جہاں میں
ہے کون جسے گلہ نہیں ہے

اخلاص سے خالی ہے یہ دنیا
ان سا کوئی اب رہا نہیں ہے

سمجھے گا جلن تو کیسے اس کی
جو زخم تجھے لگا نہیں ہے

رومی سے خفا ہو کس لئے تم
انسان یہ کچھ برا نہیں ہے

اپنی ہے یہی نشانی رومی
کوئی ہمیں پوچھتا نہیں ہے

Rate it:
Views: 441
17 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL