ابھی قبول ہے مجھ کو اداس ہو جانا
Poet: ضیا By: ضیا, Attockابھی قبول ہے مجھ کو اداس ہو جانا
ابھی نصیب ہے قدموں میں ان کے سو جانا
کسی کتاب سے کیسے کوئی نکلتا ہے
کسی کتاب سے ٹوٹا گلاب تو جانا
تری شبیہ میں دیکھا جہاں میں جو دیکھا
تری مثال سے جانا جہاں میں جو جانا
زمانہ ایک میں تحلیل کر رہا ہے مگر
ہمیشہ میں نے سفید و سیہ کو دو جانا
یہ کس کے اشک پڑے ہیں یہ قبر کس کی ہے
یہ کون روک رہا ہے کسی کا کھو جانا
یہ کتنی مرتبہ کتنوں کے ساتھ ہوتا ہے
نکل کر ایک سفر پر سفر کا ہو جانا
بلا کے شعر تھے عامرؔ بلا کا شور بھی تھا
بلا کا شہر تھا جس نے نہ آپ کو جانا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






