ابھی کچھ کام کرنے ہیں
Poet: By: Rimsha , Warminghamابھی کچھ کام کرنے ہیں "
ابھی رونا ہے
ضبط غم کا دریا پار کرنا ہے
ابھی تو ذہن کو
تیری جدائی کےلئےتیارکرنا ہے
ابھی تو آخری لمحوں میں تم کو پیار کرنا ہے
ابھی تو قریہ قریہ
ہم کو تیرے پیار میں بدنام ہونا ہے
ابھی یہ کام ہونا ہے
لب ساحل کھڑے ہو کر
زبان خامشی میں جانے کتنی باتیں کرنی ہیں
تمہارے نام ساری راتیں کرنی ہیں
وہ جتنے دن مرے جیون کے باقی ہیں
تمہارے نام کرنے ہیں
ابھی کچھ کام کرنے ہیں
ابھی تو زخم چاہت کےتری خوشبو سےمہکیں گے
ابھی تو یوں بھی ہونا ہے
کہ تیری جھیل سی آنکھوں میں
مجھکو ڈوب جانا ہے
ابھی وقت وداع کےآخری منظر کو
آنکھوں میں بسانا ہے
ابھی تو ہجر کے سمجھوتے طے ہونے ہیں
ہاتھوں میں تمہارا ہاتھ تھامے
ہاں کسی ویراں سڑک پہ
چاندنی راتوں میں کتنی دورجانا ہے
ابھی تو من میں اک احساس جاگےگا
کسی کے پاس آنے کا
کسی کے دور جانے کا
ابھی تو مجھ کو تری گود میں سر رکھ کے رونا ہے
ابھی تو یوں بھی ہونا ہے
ترے دامن پہ گرنےسےذرا پہلے
ترے اشکوں نےتو رخسارکا بوسہ بھی لینا ہے
تمھیں اک آخری خط بھی تو دینا ہے
ابھی تو حسن کو پلکوں کی ڈوری میں پرونا ہے
ابھی تو عشق کے سارے محل نیلام کرنے ہیں
ابھی رک جاؤ
نہ جاؤ،
ابھی کچھ کام کرنے ہیں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






