اب سو جاؤ

Poet: محسن نقوی By: AAZAD ALI, HUB CHOWKI

کیوں رات کے ریت پہ بکھرے ہوئے
تاروں کے کنکر چُنتی ہو
کیوں سناٹے کی سلوٹ میں
لپٹی ہوئی آوازیں سنُتی ہو
کیوں اپنی پیاسی پلکوں کے جھالر میں
خواب پرُوتی ہو
کیوں روتی ہو
اب کون تمہاری آنکھوں میں
صدیوں کی نیند اُنڈیلے گ
اب کون تمہاری چاہت کی
ہریالی میں کُھل کھیلے گ
اب کون تمہاری تنہائی کا
اَن دیکھا دُکھ جھیلے گ

اب ایسا ہے
اب رات مُسلط ہیں جب تک
یہ شمعیں جب تک جلتی ہے
یہ زخم جہاں تک چبُھتے ہے
یہ سانسیں جب تک چلتی ہے
تم اپنی سوچ کے جنگل میں ، رہَ بھٹکو اور پھر کھو جاؤ !!
اب سو جاؤ

Rate it:
Views: 1200
09 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL