اجنبی پیڑوں کے سائے میں محبت ہے بہت
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIاجنبی پیڑوں کے سائے میں محبت ہے بہت
گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوبصورت ہے بہت
رات تاروں سے الجھ سکتی ہے ذروں سے نہیں
رات کو معلوم ہے جگنو میں ہمت ہے بہت
سچ سیاست سے عدالت تک بہت مصروف ہے
جھوٹ بولو، جھوٹ میں اب بھی محبت ہے بہت
کس لیے ہم دل جلائیں، رات دن محنت کریں
کیا زمانہ ہے برے لو گوں کی عزت ہے بہت
ہم کہیں جاتے نہیں، احباب بھی آتے نہیں
ان دنوں آ جائیے فرصت ہی فرصت ہے بہت
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے بہت
مختصر باتیں کرو، بے جا وضاحت مت کرو
یہ نئی دنیا ہے بچوں میں ہے ذہانت ہے بہت
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






