تیری جنت سے ہجرت کر رہے ہیں

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تیری جنت سے ہجرت کر رہے ہیں
فرشتے کیا بغاوت کر رہے ہیں

ہم اپنے جرم کا اقرار کر لیں
بہت دنوں سے یہ ہمت کر رہے ہیں

وہ خود ہارے ہوئے ہیں زندگی سے
جو دنیا پہ حکومت کر رہے ہیں

زمیں بھیگی ہوئی ہے آنسوؤں سے
یہاں بادل عبادت کر رہے ہیں

فضا میں آیتیں مہکی ہوئی ہیں
کہیں بچے تلاوت کر رہے ہیں

ہماری بے بسی کی انتہا ہے
کہ ظالم کی حمایت کر رہے ہیں

پرندوں کے زمیں و آسماں کیا
وطن میں رہ کے ہجرت کر رہے ہیں

غزل کی آگ میں پلکوں کے سائے
محبت کی حفاظت کر رہے ہیں

میں اپنے بھائیوں سے مختلف ہوں
وہ موسم کی شکایت کر رہے ہیں

Rate it:
Views: 645
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL