ادھوری محبت
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaنظر جو اٹھائی تو سیدھا تیر ہی چلایا ہے
بڑے شوق سے ہم نے بھی زخم یہ کھایا ہے
بمشکل ہی تو پہنچا تھا تیری چوکھٹ تک
دکھا کر جام تم نے مجھے بس پھسایا ہے
یوں پوچھتے ہیں گھر والے مرے مجھ سے
بتاؤ تو ذرا تم پر یہ کس آسیب کا سایہ ہے
کہاں غائب رہتے ہو؟ کوئی نیا ٹھکانہ ہے؟
وہ کون ہے ؟تمہیں جس نے یوں اپنا بنایا ہے
اس نازنیں سے کبھی ہمیں بھی ملاؤ نا
جس نے چپکے سے تمہیں ہم سے چرایا ہے
کیا تھا وعدہ کہ اک دن ان کو میں بتاؤں گا
رشتہ دیکھنے جو انہوں نے مجھے آج بلایا ہے
کیا ان کو بتاؤں اب، ہے میخانہ مرا مسکن
تھوڑا سا ہنسا کر مجھے کتنا اس نے رلایا ہے
تمہارے لیئے ساتھ چلنا جو تھا ناممکن
تو کیوں ہر قدم پہ مجھے تم نے آزمایا ہے
ہاتھ تم سے ملایا تھا محبت میں عمراؔن
یہ شاہرگ پر کیوں خنجر تمہی نے چلایا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






