کچھ الفاظ ہوتے ہیں وہ بولے نہیں جاتے

Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwala

کچھ الفاظ ہوتے ہیں
وہ بولے نہیں جاتے

کہ ان کی ھیبت سے
زباں لرز جاتی ہے

وہ لکھنے میں نہیں آتے
کہ ہاتھ کانپ اٹھتے ہیں

کہیں آنکھوں کی بصیرت ہی
زائل نہ کر دیں یہ

اسی ڈر سے یہ پڑھنے میں نہیں آتے
کانوں کی سماعت کو بھی

ان سے ہی خطرہ ہے
ان کو سننے کی حماقت نہ کرنا تم

یہ آنکھیں بول دیتی ہیں
ماتھے پہ لکھی تحریریں

ہم دل سے پڑھتے ہیں
وہ سب درد ہوتے ہیں

دل جو ان کو پڑھ لیں
وہ تو پسیج جاتے ہیں

اثر یہ گہرا رکھتے ہیں
ہوتے ہیں بڑے تکلیف دہ یہ

کبھی یہ جان تک لے کر
اک داستان بناتے ہیں

یہ ان کہے الفاظ
بہت کچھ کہتے ہیں

بڑے مطلب رکھتے ہیں
اس مطلبی دنیا کو

ان کی سمجھ نہیں آتی
اگر یہ جان جائیں تو

جان سے ہی جائیں گے
کیسے زندہ رہ پائیں گے

یہ لفظ تو ان کو نوچ کھائیں گے
تبھی تو یہ کہے نہیں جاتے

لکھے نہیں جاتے
پڑھے نہیں جاتے
سنے نہیں جاتے

Rate it:
Views: 476
17 Mar, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL