ارادے نیک ہوں دنیا میں پھر کیا ہو نہیں سکتا
Poet: Shams Bhopali By: Shams Bhopali, Bhopalارادے نیک ہوں دنیا میں پھر کیا ہو نہیں سکتا
وگرنہ سایہ تک تیرا بھی تیرا ہو نہیں سکتا
وہ اک دشتِ بیاباں اس میں ڈیرا ہو نہیں سکتا
محبت ہو نہ جس دل میں، بسیرا ہو نہیں سکتا
ترا سب کچھ سلامت ہے، اور اس نے کچھ نہیں لوٹا
جو کچھ خط لے کے بھاگا ہے، لٹیرا ہو نہیں سکتا
میرا معیار کچھ ہٹ کے ہے، اوروں سا نہیں، سن لو
جسے میں چاہوں، کوئی ایرا غیرا ہو نہیں سکتا
ابھی ظلمت کے سائے ہیں مگر لے کام ہمت سے
کبھی یہ سوچنا بھی مت، سویرا ہو نہیں سکتا
تیری بند آنکھوں کا ہے دوش، قسمت کو برا مت کہہ
تو جب تک خود نہیں چاہے، اندھیرا ہو نہیں سکتا
یہ تیرے دل کی دنیا ہے، جہاں میری حکومت ہے
بنا میری اجازت کوئی تیرا ہو نہیں سکتا
نہیں مانگو اگر دل سے، تو کچھ ہوگا نہیں حاصل
میں تیرا ہو نہیں سکتا، تو میرا ہو نہیں سکتا
پرندے بے زباں، بے عقل، ان کو کون سمجھائے
کہ جن شاخوں پہ جھولے ہوں، بسیرا ہو نہیں سکتا
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






