اسی لیے تجھے دیتا ہوں داد نفرت کی
Poet: Muhammad Mubashir Meo By: Daniyal, Mumbaiاسی لیے تجھے دیتا ہوں داد نفرت کی
کہ تو نے عشق سے پر اعتماد نفرت کی
کوئی نہ دل سے کسی کو نکال کر پھینکے
کبھی نہ پوری ہو مولا مراد نفرت کی
کبھی کبھی وہ مجھے پیار اتنا دیتا تھا
کبھی کبھی بہت آتی تھی یاد نفرت کی
گلاب سوکھ گئے ہیں ہوئے ہیں خار ہرے
ہوس نے پیار میں ڈالی ہے کھاد نفرت کی
یہ دوست برسر پیکار ہونے لگ گئے ہیں
تو وجہ بننے لگی ہے فساد نفرت کی
اس ایک شخص کو چاہوں گا تا دم آخر
وہ جس نے مجھ سے محبت کے بعد نفرت کی
نہ کوئی تیر نہ سازش نہ تہمتیں نہ حسد
کسی نے مجھ سے بڑی بے سواد نفرت کی
کہ اس کا درد محبت کے دکھ سے تھوڑا ہے
یہ بات اچھی ہے اس نا مراد نفرت کی
میں اس لیے بھی محبت سے باز آ گیا تھا
کہ اس کے شہر میں ملتی تھی داد نفرت کی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






