افسوس
Poet: shumaila mumtaz By: shumailamumtaz, Faisalabadافسوس
اے محمدعلامہ اقبال تیرا نو جوان مد ہو ش ہے
افسو س
اے محمد علامہ اقبال
تیرےقلم سے پیدا ہو نیوالی اس نسل کے
نایاب انسان رہ گئے ہیں
کھو گئے
نجا نے کہاں
خودی مر گئی غیرت لٹ گئی
بیوہ جل گئ بیٹی سر بازار آگئی
انصاف ترازو سے اتاردیا گیا
نشہ عام ہو گیاغیرت کو بے حیائی کھا گئی
افسوس
اے محمد علا مہ اقبال
یہاں مائیں دین نہیں پڑ ھا تیں
فر صت بد یا نتی نے نماز بھی بھلا دی
گناہ گاروں کی چھا تیاں چوڑی ہو گئیں
خود کو وآپس لے آ
یا پھر خود سا کوئ بھیج
کہ جوش زندگی کو ہوش کی ضرورت ہے
پاکستان کے پرچم کو
مضبوتی سے تھامے رکھنے کیلئے
نوجوان ہاتھ چاہیئں
اے کاش
تو لوٹ آئے
ایک بار پھر جگانے کیلئے جھنجوڑنے کیلئے
ضمیروں کو زندہ کرنےکیلئے
اے محمد علا مہ اقبال
تو لوٹ آئے
تو لو ٹ آئے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






