یہ سچ ہے کہ ہاتھوں میں ترا ہاتھ نہیں ہے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا

یہ سچ ہے کہ ہاتھوں میں ترا ہاتھ نہیں ہے
اس دل میں مگر درد کی بھتات نہیں ہے

میں اپنے مقابل ہی کھڑی سوچ رہی ہوں
اب تیرے تعاقب میں مری ذات نہیں ہے

کیا خوف کے عالم میں ہیں لپٹے ہوئے الفاظ
اک ایسی گھٹن ہے کہ زباں ساتھ نہیں ہے

سوچا ہے کہ تنہائی کے اس دشت میں رہ لوں
تم ساتھ نہیں دو تو کوئی بات نہیں ہے

چبھتا ہے مجھے ڈوبتے سورج کا تصور
اس شام کی قسمت میں مگر رات نہیں ہے

میں چاہوں تو ہو جائے مجھے جیت میسر
لیکن ابھی قسمت میں ترا ساتھ نہیں ہے

چلتے ہوئے منظر کا فسانہ ہے یہ وشمہ
جاتے ہوئے موسم کی تو سوغات نہیں ہے

Rate it:
Views: 586
29 Nov, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL