التجا
Poet: سدرہ سبحان By: Sidra Subhan, Kohatیہ گھٹی گھٹی سی نوائے دل، میرا شوقِ غم بڑھا نہ دے
تیرے ہجر کی یہ اذیتیں، میری تشنگی کو مٹا نہ دے
تیری یاد کی جھکی شاخ پر، میں بہت دنوں سے اداس ہوں
یہ میرے جنوں کی حدتیں، تیرا پتہ پتہ جلا نہ دے
مجھے فخر ہے کہ ازل سے ہی، میں کسی وفا کا مریض ہوں
اے طبیب، چھوڑ سبھی جتن! میرے درد کی تو دوا نہ دے
کئی لوگ ہیں میرے سامنے، کہ جو روگ ہیں میرے سامنے
میرے ہم نشیں، ذرا بات سن! مجھے دوست بن کہ دغا نہ دے
کئی راستے، کسی واسطے، میرا نام لیتے ہیں جا بجا
مجھے عشق ہے اسی گام سے، کہ جو منزلوں کا پتہ نہ دے
میری دسترس میں ہوں کہکشاں، اگر اپنی ضد پہ میں آ گئی
تو بھی اپنے زعم کی لاج رکھ، میری خواہشوں کو ہوا نہ دے
ابھی تم کو بھی بڑے کام ہیں، ابھی مجھکو بھی ہیں شکایتیں
کہیں یہ نہ ہو تیری فرصتیں، میری چاہتوں کو مٹا نہ دے
نہیں زندگی سے گلہ مگر،کوئی دوست ہے نہ ہی ہمسفر
تو کروں گی کیا میں گزار کر، مجھے زندگی کی دعا نہ دے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






