التجا
Poet: سدرہ سبحان By: Sidra Subhan, Kohatیہ گھٹی گھٹی سی نوائے دل، میرا شوقِ غم بڑھا نہ دے
تیرے ہجر کی یہ اذیتیں، میری تشنگی کو مٹا نہ دے
تیری یاد کی جھکی شاخ پر، میں بہت دنوں سے اداس ہوں
یہ میرے جنوں کی حدتیں، تیرا پتہ پتہ جلا نہ دے
مجھے فخر ہے کہ ازل سے ہی، میں کسی وفا کا مریض ہوں
اے طبیب، چھوڑ سبھی جتن! میرے درد کی تو دوا نہ دے
کئی لوگ ہیں میرے سامنے، کہ جو روگ ہیں میرے سامنے
میرے ہم نشیں، ذرا بات سن! مجھے دوست بن کہ دغا نہ دے
کئی راستے، کسی واسطے، میرا نام لیتے ہیں جا بجا
مجھے عشق ہے اسی گام سے، کہ جو منزلوں کا پتہ نہ دے
میری دسترس میں ہوں کہکشاں، اگر اپنی ضد پہ میں آ گئی
تو بھی اپنے زعم کی لاج رکھ، میری خواہشوں کو ہوا نہ دے
ابھی تم کو بھی بڑے کام ہیں، ابھی مجھکو بھی ہیں شکایتیں
کہیں یہ نہ ہو تیری فرصتیں، میری چاہتوں کو مٹا نہ دے
نہیں زندگی سے گلہ مگر،کوئی دوست ہے نہ ہی ہمسفر
تو کروں گی کیا میں گزار کر، مجھے زندگی کی دعا نہ دے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






