التجا
Poet: سدرہ سبحان By: Sidra Subhan, Kohatیہ گھٹی گھٹی سی نوائے دل، میرا شوقِ غم بڑھا نہ دے
تیرے ہجر کی یہ اذیتیں، میری تشنگی کو مٹا نہ دے
تیری یاد کی جھکی شاخ پر، میں بہت دنوں سے اداس ہوں
یہ میرے جنوں کی حدتیں، تیرا پتہ پتہ جلا نہ دے
مجھے فخر ہے کہ ازل سے ہی، میں کسی وفا کا مریض ہوں
اے طبیب، چھوڑ سبھی جتن! میرے درد کی تو دوا نہ دے
کئی لوگ ہیں میرے سامنے، کہ جو روگ ہیں میرے سامنے
میرے ہم نشیں، ذرا بات سن! مجھے دوست بن کہ دغا نہ دے
کئی راستے، کسی واسطے، میرا نام لیتے ہیں جا بجا
مجھے عشق ہے اسی گام سے، کہ جو منزلوں کا پتہ نہ دے
میری دسترس میں ہوں کہکشاں، اگر اپنی ضد پہ میں آ گئی
تو بھی اپنے زعم کی لاج رکھ، میری خواہشوں کو ہوا نہ دے
ابھی تم کو بھی بڑے کام ہیں، ابھی مجھکو بھی ہیں شکایتیں
کہیں یہ نہ ہو تیری فرصتیں، میری چاہتوں کو مٹا نہ دے
نہیں زندگی سے گلہ مگر،کوئی دوست ہے نہ ہی ہمسفر
تو کروں گی کیا میں گزار کر، مجھے زندگی کی دعا نہ دے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






