الوداع الوداع
Poet: اعجاز احمد لودھی By: Ibn e Niaz, Multanکس نے کہا تھا
تم ہمسفر بنو
جو بن ہی گئے تھے
تو نبھانا بھی سیکھ لیتے
سفر کے سارے اطوار
رہگزر کے سارے طریقے
اونچ نیچ تو شیوہ ہے
زندگی میں بدلنے کا
مگر یہ کیا
کہ روٹھ گئے تم
اک چھوٹی سی بات پر
یہ تو نہیں کہا تھا میں نے
مجھے چھوڑ کر تم چلے جاؤ
اس دنیا کو میرے لیے تم
جہنم زار بنا جاؤ
تم جیسے جانتے نہیں تھے
کہ تمھارے بن
میں جی تو لوں گا
سانس بھی میری چلتی ہوں گی
مگر جسے کہتے ہیں زندگی
وہ تھم گئی ہو گی
پھر بھی وفا تم نبھا نہ سکے
مگر نہیں
یہ میں ہی ہوں جو اب تک
زندہ ہوں ، دھڑکن چل رہی ہے
بے وفا میں ہوں
میری جاں ، میں ہوں
جو وعدہ کیا تھا کہ سنگ چلیں گے
زندگی کے سنگ، موت کے سنگ
مگر دیکھو
دیکھو اے دنیا والو
مجھے دیکھ لو تم
جو دیکھنا ہو کسی ایسے کو
جو ساتھ رستے میں چھوڑ جائے
پہنچا کر منزل پر ہمراہی کو
خود منہ موڑ کر پلٹ آئے
دعا اب یہی ہے میری
دعا اب یہی ہے سب کی
کرے جو خدا رتبہ بلند
تیرا نام بھی ہو شامل
فہرستِ جداگانہ میں
نبیوں میں، صادقین میں بھی
شہیدوں میں ہو
اور فہرستِ صالحین میں بھی
بس یہی ہے میری دعا
فردوسِ بریں میں ہو ٹھکانہ تیرا
الوداع الوداع
اے میری زندگی کے ساتھی
الوداع الوداع۔۔
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






