اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
کل شب مر گیا مجھ کوئی
اردوں کا بہت پکاء
لفظوں کا بہت سچا
اک شخص پے اعتبار کرتے کرتے
عزت کے نام پے سولی چڑ گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
اک شخص سجدوں میں جھکا ہوا
دعاوں سے سجا ہوا
ممکن - نا - ممکن کی سوچ سے بھی
بہت آگئے کا یقین رکھتا ہوا
بس اک انکار کی آگ میں جل گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
نیت پے ملنی مراد تھی
جہاں قدم قدم پے بھی خدا کی ذات تھی
پھر بھی دنیا کے طعنوں سے
اندر ہی اندر مر گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
اک آندھری رات میں
آنسووں کی برسات میں
کچھ پوشیدہ یادوں کی یاد میں
قطرہ قطرہ کر کے مٹ گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
توں نے ساتھ چھوڑا تو
اک گلاب سا چہرہ مرجھا گیا
تیرے ٹھکرانے کے بعد ُاس شخص کو
دنیا نے بھی ٹھکرا دیا
موم سا وجود لے کر پتھر بن گیا کوئی
اور ُاس تک کوئی خبر نا گئی
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






