اُداسی
Poet: Nisar Turabi By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurساحل اداس تھا کہ
سمندر اداس تھا
لگتا تھا جیسے سارا منظر اداس تھا
لوٹی فلک سے تو بڑی دل گیر تھی دعا
اک خواب ٹوٹنے پر مقدر اداس تھا
پھر چاند کو گلے لگا کر،رو پڑی گھٹا
ایسا لگا طوفان بھی فلک پر اداس تھا
میری تبائیوں پراسے بھی ملال تھا
آئینہ خود کا توڑ کر پتھر بھی اداس تھا
جو شخصشہر میں سب ہی کو ہنسی بانٹتا رھا
یہ دل اسی کی بزم میں جا کر اداس تھا
کرو گے یاد اک دن تم محبت کے زمانے کو
چلے جائیں گے ہم جس دن کبھی نہ واپس آنے کو
کسی محفل میں چھیڑے گا ہمارا زکر جب کوئی
چلے جاؤ گے تنہائی میں تم آنسو بہانے کو
گھٹائیں پربتوں پر جھک کے جب اُلفت بہائیں گی
ترس جاؤ گے تم بھی تب ہمارے پاس آنے کو
سفر میں اپنے حصے کی مسافت یاد رہتی ہے
کہیں آباد ہونے پر بھی ہجرت یاد رہتی ہے
وہ چاہے دوستی ہو، دشمنی ہو یا محبت ہو
یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی ہے
کسی صحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے
یہ سچ ہے پیار پہلا ہی بسا رہتا ہے سانسوں میں
یہ سچ ہے عمر بھر پہلی محبت یاد ریتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






