اُمراء کی اصل نظم
Poet: hafeezUr rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar حبیب جالب سے معذرت کے ساتھ
دیپ اب تو محلات ہی میں جلے
ساری خوشیاں ہماری ہی لے کر چلے
سائے میں ہر مصلحت کے پلے
یہی دستور ہے جو کہ پُر نور ہے
میں یہی مانگتا میں یہی مانگتا
اپنے خاندان چھائے رہیں ہر طرف
جس طرف دیکھوں پھلے رہیں ہر طرف
ہم مر کر بھی زندہ رہیں ہر طرف
فقط اپنی موجیں فقط اپنے میلے
میں یہی مانگتا میں یہی مانگتا
ہیں محلات اپنے ہر یک ملک ًمیں
دولت ہے بکھری ہر اک ملک میں
اب آئے ہیں لینے بچا ملک میں
جمہوریت کا کھیل یونہی چلتا رہے
میں یہی مانگتا میں یہی مانگتا
پائی ہے مغلوں کی میراث ہم نے
جمہوریت میں پائی ہے معراج ہم نے
اپنی بقاء ہم نے پائی ہے اس میں
کریں حکمرانی ہماری اولادیں
میں یہی چاہتا میں یہی چاہتا
زرداری شریف ساتھ مل کے چلیں
ناچتے گاتے گدھے اپنے پیچھے چلیں
غریب زندہ ہوتے ہوئے مر چلیں
ہر ٹھیکے میں ہم کو کمیشن ملے
میں یہی مانفتا میں یہی مانگتا
بجلی اتنی ہے جتنی کہو ملک میں
گیس کی اب تو قلت نہی ملک میں
کیسے مانوں یہ دونوں ہی آتی نہیں
اس بکواس کو جھل کی بات کو
میں نہی مانتا میں نہی مانتا
بیروز گاروں کی لمبی قطاریں لگیں
آلودہ پانی ہے پینے کا اس ملک میں
تعلیم بچوں کو ملتی نہیں
اس کھولے چھوٹ کو اس سفید چھوٹ کو
میں نہی مانتا میں نہی مانتا
اگر بھوک ہے تو نہ غم کھائے کوئی
علاج گر اپنا نہ کر پائے کوئی
نہ سوچو دھماکے میں مر جائے کوئی
چھوٹی سی بات ہے کیا بڑی بات ہے
میں نہی مانتا میں نہی مانتا
کیا بکتا ہے انصاف اس ملک میں
تھانے بکتے ہیں کیسے بھلا ملک میں
کون کہتا ہے انصاف نہی ملک میں
ّعدل ہر عدالت سے ہم کو ملا
میں یہی جانتا میں یہی جانتا
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






