ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں

Poet: سید مجتبیٰ داودی By: Syed Mujtaba Daoodi, Karachi

ڈر کے اہلِ ستم سے لکھتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں

بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں

وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں

اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں

آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں

حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں

Rate it:
Views: 51
17 Mar, 2026
More Political Poetry