اِس گلشن نے بھی پھول کھلائے تھے کبھی
Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahoreاِس گلشن نے بھی پھول کھلائے تھے کبھی
وہ ہماری بھی باہوں میں آئے تھے کبھی
بدنامیاں ہماری جی بھر کے کی انہوں نے
جنہوں نے راز بھی ہمارے چھپائے تھے کبھی
اب پاس سے بھی نہیں گزرتے ہیں وہ
ہم اُن کے ٗ وہ ہمارے سائے تھے کبھی
اب نفرت ہی نفرت ہے ہمارے لیے
جنہوں نے محبت کے ڈھیر لگائے تھے کبھی
میرے باغیچے کی فضا بھی تازہ تھی کبھی
میرے آنگن میں تارے جھلملائے تھے کبھی
اب بے زبان ہیں ہم ٗ تو کیا ہوا
محبت بھرے گیت گنگنائے تھے کبھی
آج غیروں کا ہے سب کچھ ٗ تو کیا ہوا
ہماری خاطر بھی تحفے لائے تھے کبھی
اب اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
سوچتی رہتی ہوں ٗ مسکرائے تھے کبھی
اب وہ پتھر ہو گیا ہے زمانے کے ساتھ
دو آنسو ہم نے بھی اُسے رُلائے تھے کبھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






