ہماری لبریز محبت کا ہمیں ثمر دیا ہوتا

Poet: Sobiya Anmol By: Sobiya Anmol, Lahore

ہماری لبریز محبت کا ہمیں ثمر دیا ہوتا
ارمان و امید کو اُجلتا گھر دیا ہوتا

ساری عمر تو نہ مانگی تھی ہم نے
پیار ہمیں بس اِک ہی نظر دیا ہوتا

حقیقت نہ دے سکے ہمیں سکوں کی تم
سکوں کا سپنا ہی ہمیں او بے خبر دیا ہوتا

دو آنسو ہمارے لیے بھی بہا دیتے کبھی
ہم نے کب کہا ٗ خونِ جگر دیا ہوتا

لوگوں کی سنتے رہے تم ہر نئے دن
دھیان تھوڑا میری بھی بات پر دیا ہوتا

دنیا سنور جاتی تمہارے پیار سے ہماری
تم نے تحفۂ پیار ہمیں اگر دیا ہوتا

کاش آتا تمہیں ہم پر مر مٹ جانا
قدرت نے تمہیں چاہت کا گہر دیا ہوتا

یا کاش ملتا ہمیں بھی تم سا دل
خدا نے دلِ سنگدل یا بے اثر دیا ہوتا
 

Rate it:
Views: 488
11 Nov, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL