اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہاِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا
میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی
اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا
کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے
سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا
میں بڑا مُجرم ہُوں مُجھ کو ضابطوں کا ہے خیال
ہتھکڑی اِک سنتری پہنائے گا، لے جائے گا
میری چِیزوں میں سے اُس کو جو پسند آیا کبھی
چِھین لے گا چِیز پِھر مُسکائے گا، لے جائے گا
شاعری رکھ دی ہے میں نے کم نظر لوگوں کے بِیچ
دوستو وہ مِہرباں بھی آئے گا، لے جائے گا
اپنی بِیوی کے بِنا کِس کا گُزارا ہے یہاں
دیکھنا، داماد جی پچھتائے گا، لے جائے گا
سر میں چاندی تار لے کر ایک لڑکی نے کہا
کیا کوئی اب بھی مُجھے اپنائے گا، لے جائے گا؟؟
دیکھنا کُوڑے میں سڑتا باسی کھانا بھی رشِیدؔ
ننھا سا مجبُور بچّہ کھائے گا، لے جائے گا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






