اپنے افسانے کو کوئی نام تو دے جاتے
Poet: Jamil Hashmi By: Jamil Hashmi, Rawalpindiاپنے افسانے کو کوئی نام تو دے جاتے
جاتے جاتے کوئی پیغام تو دے جاتے
کیسے گزرے گی یہ زندگی تم بن
ہماری زیست کوتھوڑا آرام تو دے جاتے
کس سے کریں گے محبت کی باتیں ہم
ہماری چاہت کو کوئی انعام تو دے جاتے
پوچھتے ہیں لوگ تیرے روٹھنے کا سبب
پیارکی کہانی کو کوئی انجام تو دے جاتے
کتنی آسانی سے تم نے چھوڑ دیا ہمیں
ہماری نادانی کو درد بھرا اختتام تو دے جاتے
More Sad Poetry






