اک دل والوں کی بستی تھی
Poet: Mubashar By: Mubashar Islam, lahoreاک دل والوں کی بستی تھی
جہاں چاند اور سورج رہتے تھے
کچھ سورج من کا پگلا تھا
کچھ چاند بھی شوخ چنچل تھا
بستی بستی پھرتے تھے
ہر پل ہنسے رہتے تھے
پر اک دن دونوں روٹھ گئے
اور سارے سپنے ٹوٹ گئے
اب چاند بھی اس وقت آتا ہے
سورج جب سو جاتا ہے
بادل سب سے کہتے ہیں
سورج الجھا سا رہتا ہے
چاند کے ساتھ ستارے ہیں
پر سورج تنہا رہتا ہے
یہ نظم اپنے پیاروں کے نام جو ہم سے بہت دور ہیں
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






