ایتھے کر نہ ایڈا ترلہ
Poet: صوفی شاعر حضرت غلام حضور شاہ By: maqsood hasni, kasurصفت کراں میں رب سچے دی جو ہے خاص رحمن
اٹھ پچھلی راتیں ملاں دین ازان ۔۔۔۔
کر عبادت رب دی جے ہیں نیک نصیب
عبادت کر گیے رب دی الله دے حبیب
اٹھ سویرے کرماں والی پاوے ددھ مدھانی
ددھ ریڑکے تے مکھن نکلے مکھن نکلے نہ پانی
گزرے زمانے پھر نہ آون لکھ چارہ کوئی لاوے
گئی جوانی تیری بندیا ہن بڑھاپا آوے
پانی گیے دریاواں والے چھڈ وطناں نوں جاون
رات دنے میں کراں ایڈیکاں کدوں سجن گھر آون
۔۔۔۔ جے کوئی امانت رکھے اوہ نہ یارو کھائیے
دنیا دے لاچ وچ پئے کے نہ ایمان گوائیے
گھر چمکے شیشے وانگوں جے کر چنگی ہووے سوانی
سوٹا ماریاں دو نئیں ہوندے جو وگدے نیں پانی
پتلوں کدی نئیں سونا بن دا لکھ چارہ کوئی لاوے
لکھاں مناں دے کولے لیاء کے وچ کٹھالی پاوے
سن چوہتر دس جنوری وار جمعرات سداوے
دنیا اتے ایہہ دن بھائی فر کدی نہ آوے
بس کر یار حضور شاہ ایتھے کر نہ ایڈا ترلہ
مر گئیوں تے ملے گا تینوں سارا بھوں نہ ادھ مرلہ
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






