ایسا ہو سکتا ہے نا

Poet: Aazi By: Azam, Gujranwala

ایسا ہو سکتا ہے نا
کہ میں نے جان لیا ہو
تجھے تیری ذات کی گہرائی تک
تیرے محل سے لیکر تنہائی تک
ایسا ہو سکتا ہے نا
کہ میں نے بہت کرب سہا ہو
تیرے ستم سے لیکر تیری مسیحائی تک
اور ایسا بھی تو ہو سکتا ہے نا
کہ تجھے کوئی دکھ نا ہو
میرے ملنے سے لیکر میری جدائی تک
ہاں یقین کر لو
ایسا ہو سکتا ہے شاید
کہ عمر بھر کیلئے کافی ہو
یہ دکھ کہ میں نے سفر کیا
اپنی ذات سے لیکر
تیری ذات کی رسائی تک

Rate it:
Views: 480
16 Sep, 2010
More Sad Poetry