ایک خواب کا تاوان بھرنا ہے

Poet: Aazi By: Azam, Gujranwala

سنو لوگوں میری آنکھیں خریدو گے
بہت مجبور حالات میں مجھے نیلام کرنی ہے

کوئی مجھ سے نقد لے لے
میں تھوڑے دام لے لو گا

جو پہلی بولی کر دے
بس اسی کے نام کر دوں گا

سنو لوگوں بہت محبوب ہے مجھ کو
یہ میری نیم تر آنکھیں

مگر اب بیچتا ہوں
اس لئے کہ مجھے
ایک خواب کا تاوان بھرنا ہے

Rate it:
Views: 707
07 Sep, 2010