ایک مکان
Poet: رشیدحسرت By: رشیدحسرت, Quettaجِیون بھر کے ارمانوں کا حاصِل ایک مکان
قطعہ، پانی، گارا آدھی سِی سِل ایک مکان
معمُولی سی مانگ ہے میری پُوری ہو سکتی ہے
مانگ رہا ہے مولا میرا بھی دِل ایک مکان
میں نے جو اِک خواب بُنا تھا خوابوں میں بستا ہے
ہو گا میرا عِشق سوایا، ساحِل، ایک مکان
بُوڑھے ہو کر عُہدے سے تو ہٹ جاتے ہیں ہم
لے پانا اِس مائے سے ہے مُشکِل ایک مکان
روتے رہتے تو ہیں لیکِن چُپ رہتے ہیں
میں نے خُود دیکھا ہے دُکھ سے بِسمل ایک مکان
تھا یاروں کا حلقہ، پِھر بھی میں تنہا تھا
وہ بے فیض سے کُوچے، گلیاں، سنگدِل ایک مکان
اب تک ماضی مارا ماری کر لیتا ہے
دو چُبھتی سی آنکھیں، بابُو، فائِل، ایک مکان
اپنے مالک کی کرتُوتوں سے تنگ آیا
سو پہلُو میں آ کر رویا گھائِل ایک مکان
ماضی کے ملبے سے نِکلا لاشہ گھبرو کا
جو دوشی ہے چُپ ہے حسرتؔ قاتِل ایک مکان
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






