سجاتا بھی مُجھے ہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے
زُلفوں میں سُلاتا بھی، جگاتا بھی مُجھے ہے
آتا ہے بہُت اُس پہ مُجھے غُصّہ بھی لیکِن
پیار اُس پہ کبھی ٹُوٹ کے آتا بھی مُجھے ہے
در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا ہے
وُہ دُشمنِ جاں دوستو بھاتا بھی مُجھے ہے
انجان بنا رہتا ہے، بیزار دِکھے، پر
وحشت میں، وہ تنہائی میں پاتا بھی مُجھے ہے
گر آئے جفا کرنے پہ، تَوبہ مِری تَوبہ
وُہ قِصّے وفاؤں کے سُناتا بھی مُجھے ہے
جنّت کی کوئی سیر کراتا ہے رفِیقو
دوزخ میں مگر کھینچ کے لاتا بھی مُجھے ہے
میں اُس کی دُعا بن کے مچلتا ہُوں لبوں پر
دِن رات وُہ ہونٹوں پہ سجاتا بھی مُجھے ہے
جو اسپ سمجھتا ہے لگاموں کو پکڑ کر
پھر شخص وہی ایڑھ لگاتا بھی مجھے ہے
وُہ جِیت کی اسناد مِرے نام لگا کر
خنجر سے کوئی گھاؤ لگاتا بھی مُجھے ہے
آتا ہے مِرے گھر کو سجانے کے لِیئے بھی
جب نِیند کُھلے چھوڑ کے جاتا بھی مُجھے ہے
پہلے تو بُلاتا ہے بڑے شوق سے حسرتؔ
پِھر ڈانٹ کے محفِل سے اُٹھاتا بھی مُجھے ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






