اے خدایا ! کاش ُتو یہ دل نا بناتا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاے خدایا ! کاش ُتو یہ دل نا بناتا
اگر دل بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی جذبات نا بناتا
اگر جذبات بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی احساس نا بناتا
اگر احساس بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی خواب نا بناتا
اگر خواب بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی تعبیر نا بناتا
اگر تعبیر بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی ہاتھوں کی لکیر نا بناتا
اگر لکیر بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی نصیب نا بناتا
اگر نصیب بنانا ضروی تھا تو
ُُُُ ُتو کوئی خواہش نا بناتا
اگر خواہش بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی ُامید نا بناتا
اگر ُامید بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی مایوسی نا بناتا
اگرمایوسی بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی وقت نا بناتا
اگر وقت بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی انتظار نا بناتا
اگر انتظار بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی عاشق نا بناتا
اگر عاشق بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی بےوفا نا بناتا
اگر بےوفا بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی الزام نا بناتا
اگر الزام بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی پیار نا بناتا
اگر پیار بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی ہجرے شام نا بناتا
اگر ہجرے شام بنانا ضروی تھا تو
ُتو کوئی انسان نا بناتا
اگر انسان بنانا ضروی تھا تو
اے خدایا ! ُتو یہ دل نا بناتا
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






