باب قبولیت کو دعا ڈھونڈتی رہی

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

خوشبو گلوں میں تیری ادا ڈھونڈتی رہی
محشر کی دھڑکنوں کو خطا ڈھونڈتی رہی

خود ہی کسی کی یاد کے ہاتھوں میں سونپ کر
وحشی حیات میرا پتہ ڈھونڈتی رہی

مہکے چمن کو چھوڑ کر میری خزاؤں میں
جاتی بہار اپنی بقا ڈھونڈتی رہی

اپنے پروں کے عارضی رنگوں سے بے خبر
تتلی کلی کلی میں وفا ڈھونڈتی رہی

اک داستاں لپیٹ کر صدیوں کے ظلم کی
منصف کو میری چاک قبا ڈھونڈتی رہی

سسی کا عشق ساحل معراج پا گیا
موج چناب کچا گھڑا ڈھونڈتی رہی

ڈر کر فروغ آتش نمرود وقت سے
شمع کی ناز کی کو ہوا ڈھونڈتی رہی

مدت سے میرے لرزتے ہونٹوں سے نکل کر
باب قبولیت کو دعا ڈھونڈتی رہی

Rate it:
Views: 1011
12 Jan, 2011