باز آؤ سفر سے
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quettaدیکھا نہ گیا اجڑا نگر دیدۂِ تر سے
تھی اتنی گھٹن ہم تو نکل آئے ہیں گھر سے
کچھ ایسےصحیفوں کا ہؤا جاتا ہے ادراک
دل چیخ اٹھا غم سے، صدا آئی جگر سے
اک بات ستاروں نے مرے کان میں کہہ دی
شب بھر کو جگے، چین بھری نیند کو ترسے
موسم کے ارادوں میں تبدل ہے نمایاں
مانو جو مری بات تو باز آؤ سفر سے
جو انجمِ تاباں کا طلب گار نہیں ہے
محروم ہؤا سمجھو گراںبار شجر سے
آنگن میں لگے پیڑوں سے امید بڑی تھی
افسوس مگر ہم تو ہیں محروم ثمر سے
ہم کچھ بھی نہیں خاکِ کفِ پائے بزرگاں
اِس جا پہ ہیں ہم اُن کی دعاؤں کے اثر سے
مسحور بیاباں میں سرابوں کا سفر تھا
انفاس جمے رہتے فسوں کار کے ڈر سے
پھر تُل کے رشیدؔ آیا ہے کفار کا لشکر
کچھ سیکھ نہیں ان کو مگر جنگِ بدر سے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






