شاہ رخاں میں

Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quetta

ستارے جھومتے ہیں کہکشاں میں
کہیں کیوں شعر بازاری زباں میں

بڑھائی ہیں حدیں بھی سلطنت کی
کسی نے کھوئی شاہی اک بیاں میں

عبارت میں ہو جیسے کوئی نقطہ
رہا کردار اتنا داستاں میں

تسلسل برقرار آفت گری کا
پڑا جیسے شگاف اک آسماں میں

نہیں دستار تو سر کیا کریں گے
شمار اپنا سمجھ لو رفتگاں میں

عصا کا معجزہ میراث میں ہے
بدل دی آگ بھی تھی گلستاں میں

حسینہ لے کے اتری ناز و عشوے
شمار اس کا سبا کے شہ رخاں میں

اسے مٹی کے بھاؤ بھی نہ جانوں
جو شامل ہے نگر کے زر گراں میں

عجب ہی شیوۀِ وعدہ خلافی
رشیدؔ اب آ گیا ہے دلبراں میں
 

Rate it:
Views: 141
07 May, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL