بتانے کا نہیں
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہروتے رہنے کا نہیں اور رلانے کا نہیں
یاد رکھنا ہے کسی طور بھلانے کا نہیں
شرط اتنی ہے مرے ساتھ اگر چلنا ہے
بیچ رستے میں کہیں چھوڑ کے جانے کا نہیں
در گذر کر لو اگر مجھ میں کوئی خامی ہے
آسماں سر پہ مری جان اٹھانے کا نہیں
تم قریب آؤ تو دھڑکن ہی بتائے گی تمہیں
حال کیسا ہے مرے دل کا، بتانے کا نہیں
سانحہ جس سے میں گزرا ہوں ترے ہجر کی شب
کیسے الفاظ چنوں میں کہ فسانے کا نہیں
کل کڑا وقت تھا تجھ پر، تو ترے کام آیا
اب مَیں مشکل میں ہوں اے دوست بہانے کا نہیں
اک حقیقی ہے منانا ہے بہت سہل جسے
اک مجازی ہے کہ روٹھے تو منانے کا نہیں
شہر تو پاؤں کے حلقے میں مرے ہے لیکن
ایک کوچے میں کسی طور بھی جانے کا نہیں
روند کر دل کو یہ حسرتؔ کے چلا جاتا ہے
ہے قصور اپنے مقدّر کا، زمانے کا نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






