تم نہیں جانتے
Poet: مریم جہانگیر By: مریم جہانگیر, Sheikhupuraتم نہیں جانتے دیواروں سے گونجتی چیخوں کا اثر
کیسے ہر لفظ روح پر ایک زخم سا چھوڑ جاتا ہے۔
تمہیں یہ احساس نہیں کہ دروازے کا زور سے بند ہونا
کس طرح دل کی دھڑکنوں کو بے قابو کر دیتا ہے،
کس طرح انسان ہر لمحے خود کو کسی نئے طوفان کے لیے تیار کرتا ہے
تم نے کبھی وہ خاموشی محسوس نہیں کی
جو گھر کو قیدخانہ بنا دیتی ہے
جہاں انسان ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے
جیسے اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو۔
تم نہیں جانتے ماں کی آنکھوں میں
خوف اور بے بسی کی جھلک کو
یہ جانتے ہوئے کہ وہ خود کو قید محسوس کرتی ہیں
اور دل میں ان کی مدد کا عزم رکھتے ہوئے
اپنے آپ کو بے بس پانا۔
تم نہیں جانتے کہ بہادر چہرے کے پیچھے
ہر دن بکھرتے دل کو کیسے سنبھالا جاتا ہے
کیسے زخم بھر جانے کے باوجود
اپنی یادوں میں کہیں زندہ رہتے ہیں۔
تم نہیں جانتے کسی پر بھروسہ کرنے کا خوف
اور یہ سوچ کہ اگر کچھ کہا تو
حالات مزید بگڑ سکتے ہیں
کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے
اور تم نہیں جانتے وہ لمحے
جب کسی اپنے کو غصے اور قابو کی آگ میں
آہستہ آہستہ اجنبی بنتے دیکھنا پڑتا ہے
اور ہر سکون کے لمحے میں
یہ خوف چھپا ہوتا ہے
کہ طوفان کبھی بھی لوٹ سکتا ہے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






