بحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے
Poet: Dr. Masood Mehmood Khan By: Dr. Masood Mehmood Khan, Perth, Australiaبحرِ احساس مرے جسم میں بہتا کیوں ہے
اور تھپیڑوں کو بدن شان سے سہتا کیوں ہے
دل نہیں دیکھتا جو آنکھ دکھاتی ہے اسے
دید کچھ بھی کہے دل اپنی ہی کہتا کیوں ہے
وقت اور سوچ میں اک دوڑ لگی رہتی ہے
دوڑ میں پیچھے صدا وقت ہی رہتا کیوں ہے
جادو اعداد کی موجوں کا یہ ہوتا کیوں ہے
لشکرِ حرص و ہوس ان پہ ہی بہتا کیوں ہے
ملکیت توہے بدن کی نہ بدن تیراہے
کوئی سرگو شیوں میں مجھ سے یہ کہتا کیوں ہے
عمر یہ کس کی تو جس کو جئے جاتا ہے
تیرا افسانہ نہیں ہے تو تو کہتا کیوں ہے
کون الفاظ کو گویا ئ عطا کرتا ہے
میں َ لکھے بھی جو قلم ورق ًَ تو َ کہتا کیوں ہے
تجھ کو تخلیق سے پہلے ہی سنوارا گیا تھا
دردِ تزئین عدم ہی سے تو سہتا کیوں ہے
وجد میں رقص کُناں رہتے ہیں افلاک تو پھر
دیدہ ور گردشِ افلاک ہی کہتا کیوں ہے
ہر دعاپر مری مسعود کوئی جا نے کیوں
مانگئے مانگتے ہی جا ئئے کہتا کیوں ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







