بخشوانا ہی ضروری تھا اپنی کل خطائون کا
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK بخشوانا ہی ضروری تھا اپنی کل خطائون کا
جسم متحمل نہیں ہو سکتا اپنا کڑی سزائون کا
مان کے ہوتے ہوے کوئی بلا چھو نہ سکی ہمکو۔
بعد اس کے سلسلہ تھم نہ سکا حاد ثائوں کا۔۔۔
مین کہاں کا متقی پھر یار پرھیز گار ٹہرا ؟؟؟
سارا عالم ہو جب گواہ میرے پر خطائوں کا۔
کوئی چارہ سوز الفت یار ادھر بھی ہو اپنے۔۔۔
کہ دل مایوس بیٹھا ھے اپنا لیے کارں جفائوں کا۔
میں اکیلا ادھر تنہا رہہ گیا ہوں تیرے ہوتے۔
اچھا صلہ پایا ھے دل نے ظالم اپنی وفائوں کا۔
اےعشق تیرے پیچھے ہم کہیں کے نہ رھے ظالم ۔
ہائے کیا بنے گا اب اپنی کی ان وفائوں کا؟؟؟
چل اٹھ اب کوچ کر کہ سفر ھے کوئی باقی۔۔۔
یہ آخر منزل نہیں پیارے ھے ٹھکانہ بیوفائوں کا۔
وہ جو بیچ منجھد ھار ہمیں چھوڑ گئے اسد تنہا۔۔۔
اے دل خانخراب کیا کیجیئے ایسے نا خدائوں کا؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






