دل میں اپنی چاھت کا رنگ بھرتا چلا گیا
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPKدل میں اپنی چاھت کا رنگ بھرتا چلا گیا
کوئی محبت سے ہمیں آ شنا کرتا چلا گیا
کیا ہی دل نے اسکے آگے گھٹنے ٹیکے اپنے۔
کہ اس نے جو چاھا وہی دل کر تا چلا گیا۔
پھر سے دے گیا کوئی زندگی کو جیوں دان۔
یعنی پیار سے دل کو پریچت کر تا چلا گیا۔۔
یوں بھی دل اس کے ہاتھوں کا کھلونہ تھا۔
جب پھینکا اس نےدل ٹوٹ بکھر تا چلا گیا۔
کہتا ھے پیار امر ھے کبھی نہیں مر تا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اور دل میں اتر تا چلا گیا۔۔۔
کیا ہی یاد دلائی اس نے دل کو ماضی کی۔۔۔
یعنی بچپن کی وہ یادیں تازہ کر تا چلا گیا۔۔
کیا ہی وہ دن تھے اپنے کھیلنے کھانے کے۔
آہ ! وقت کا پتہ نہ لگا کیسے گذر تا چلا گیا؟
بارہا منع کیا ہم نے اسد آتش عشق سے۔۔۔
مگر دل تھا کہ دریا ء میں اتر تا چلا گیا۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






