دل میں اپنی چاھت کا رنگ بھرتا چلا گیا

Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK

دل میں اپنی چاھت کا رنگ بھرتا چلا گیا
کوئی محبت سے ہمیں آ شنا کرتا چلا گیا

کیا ہی دل نے اسکے آگے گھٹنے ٹیکے اپنے۔
کہ اس نے جو چاھا وہی دل کر تا چلا گیا۔

پھر سے دے گیا کوئی زندگی کو جیوں دان۔
یعنی پیار سے دل کو پریچت کر تا چلا گیا۔۔

یوں بھی دل اس کے ہاتھوں کا کھلونہ تھا۔
جب پھینکا اس نےدل ٹوٹ بکھر تا چلا گیا۔

کہتا ھے پیار امر ھے کبھی نہیں مر تا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اور دل میں اتر تا چلا گیا۔۔۔

کیا ہی یاد دلائی اس نے دل کو ماضی کی۔۔۔
یعنی بچپن کی وہ یادیں تازہ کر تا چلا گیا۔۔

کیا ہی وہ دن تھے اپنے کھیلنے کھانے کے۔
آہ ! وقت کا پتہ نہ لگا کیسے گذر تا چلا گیا؟

بارہا منع کیا ہم نے اسد آتش عشق سے۔۔۔
مگر دل تھا کہ دریا ء میں اتر تا چلا گیا۔

Rate it:
Views: 418
11 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL