بد نام
Poet: Madni ali By: Madni Ali, Multanکُچھ صبح کو کر میلا مجھے کُچھ شام کو بدنام کر
ملے خاک میں بھی نا جگہ اتنا مجھے گُمنام کر
کر ستم ایسا کہ تماشا بن جاؤں میں سب کی نظر کا
کبھی اِس گلی کبھی اُس گلی بد نام مجھے سرِ عام کر
میں تیری کھوئی قیمت میں تیرا وقار بن جاؤں
تُو میرے ظرف میرے وقار کو بے دردی سے نیلام کر
میرے خون کا قطرہ قطرہ نچوڑ لے جام میں
میرے کلیجے کے ٹکڑوں سے اپنے طعام کا اہتمام کر
کون چاہتا ہے قید سے رہائی طلب کسے آزادی کی
اپنی نظر کے طلبگاروں کو ہمیشہ کے لیے غلام کر
کُچھ ہو مزا میرے لٹنے کا،کُچھ ہو مزا تیرے لوٹنے کا
لوٹ لے جو میرا چین میرا سکون ایسا کوئی کام کر
حرف سے حرف ملا کر خود کو جوڑا ہے میں نے
تُو میرے نام کے ہر حرف کے ٹکڑے سے ٹکڑے تمام کر
اِک عرصے سے سوگوار رکھا ہے تیری بے رُخی نے علی
اپنی نظروں سے تھام کر میری سانسیں قصہ میرا تمام کر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






