بنجر سی کس زمین پہ ٹھہرا دیا مجھے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلابنجر سی کس زمین پہ ٹھہرا دیا مجھے
آنکھوں میں انتظار کا صحرا دیا مجھے
وہ تو جناب حسن میں بہکے ہوئے تھے اور
خوابوں میں ایک خواب سے بہلا دیا مجھے
شب کے گداز جسم میں کچھ ڈھونڈتا رہا
پھر چاندنی میں چاند نے نہلا دیا مجھے
بڑھنے لگے کبھی جو گلابوں کی جستجو
گلشن میں تیرے پیار نے مہکا دیا مجھے
جو شخص مجھ کو جان سے بڑھ کر عزیز ہے
وشمہ اسی کی ذات نے دھوکا دیا مجھے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






