بند پلکیں
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-khobar KSAرشتے ناطے خواب کی صورت
آنکھوں میں بس جاتے ہیں
بند پلکؤں میں شام کے سائے
سورج سنگ چھپ جاتے ہیں
کس سے پوچھوں وہ کیوں روٹھا
جیون کا ناطہ پل میں چھوٹا
بیتے لمحے موسم بن کے
تیری یاد دلاتے ہیں
خالی بستر خالی کمرہ
خالی رات کا آنگن
چوڑی ٹوٹی خوشبو روٹھی
سپنے آن رلاتے ہیں
آس کا بندھن اب بھی باقی
جام ھے ٹوٹا بے بس ساقی
جھیل کنارے شام کے سائے
ھر لمحے تڑپاتے ہیں
ٹی وی پروگرام میں ایک دکھی پاکستانی خاتون کی کہانی نے رلا دیا ۔ اسکی کہانی نظم کی شکل میں لکھی ھے ۔ شکریہ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






