کسی کی یاد نے اتنا ستایا
Poet: Mehr Khan Muhammad Harnota Sar Khush Bharwana By: Khalid Roomi, Rawalpindi کسی کی یاد نے اتنا ستایا
بیاں کرتے کلیجہ منہ کو آیا
گریباں چاک، آنکھیں نم، جگر خوں
تری فرقت نے دیوانہ بنایا
کہاں کا عزم ہے ، پھر کب ملیں گے
دم رخصت نہ اتنا بھی بتایا
سکوں ، صبر و قرار، آرام و تسکیں
تری فرقت میں سب ساماں لٹایا
فرشتوں سے نہ اٹھا تھا جو اے دل !
اک بار امانت کیوں اٹھایا ؟
توقع جس سے تھی دلداریوں کی
اسی نے دل کو ٹکڑے کر دکھایا
کروں کس سے گلہ ، کس سے شکایت
مقدر میں جو لکھا تھا ، وہ پایا
نہ جانے غم کے بادل کب چھٹیں گے
ملے گا کب تری زلفوں کا سایا
کسی کی نرگسی آنکھوں کا صدقہ
جمال یار آنکھوں میں سمایا
شب تاریک میں سر خوش نے یارو
سر راہے چراغ دل جلایا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






