کسی کی یاد نے اتنا ستایا

Poet: Mehr Khan Muhammad Harnota Sar Khush Bharwana By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 کسی کی یاد نے اتنا ستایا
بیاں کرتے کلیجہ منہ کو آیا

گریباں چاک، آنکھیں نم، جگر خوں
تری فرقت نے دیوانہ بنایا

کہاں کا عزم ہے ، پھر کب ملیں گے
دم رخصت نہ اتنا بھی بتایا

سکوں ، صبر و قرار، آرام و تسکیں
تری فرقت میں سب ساماں لٹایا

فرشتوں سے نہ اٹھا تھا جو اے دل !
اک بار امانت کیوں اٹھایا ؟

توقع جس سے تھی دلداریوں کی
اسی نے دل کو ٹکڑے کر دکھایا

کروں کس سے گلہ ، کس سے شکایت
مقدر میں جو لکھا تھا ، وہ پایا

نہ جانے غم کے بادل کب چھٹیں گے
ملے گا کب تری زلفوں کا سایا

کسی کی نرگسی آنکھوں کا صدقہ
جمال یار آنکھوں میں سمایا

شب تاریک میں سر خوش نے یارو
سر راہے چراغ دل جلایا

Rate it:
Views: 949
12 May, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL