بھرے جہاں میں فقط تیری ہی کمی ہو گی
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanنہ جانے کیسے بسر اب یہ زندگی ہو گی
بھرے جہاں میں فقط تیری ہی کمی ہو گی
کھلیں تو ہوں گی وہ باد صبا کے جھونکوں سے
اداس ترے لیے پر کلی کلی ہو گی
حسین ماضی کی یادیں تجھے رلائیں گی
وطن کو چھوڑ کے جب دور جا چکی ہو گی
کچھ الجھنوں کی بھی زنجیر ہو گی پیروں میں
کچھ اس کی راہ میں حائل برادری ہو گی
بچے بھنور سے تو ساحل پہ زندگی نہ ملی
کسی سے ایسی نہ قسمت نے دل لگی کی ہو گی
فراق میں تو یہ دل بے قرار ہے ، شاید
وصال یار میں بھی مجھ کو تشنگی ہو گی
تھے مصلیحت کے تقاضے ہی اس کے پیش نگاہ
وگرنہ اتنی بھی نہ اس کو چپ لگی ہو گی
گلہ نہیں ہے مجھے تیری بے وفائی کا
مری وفا ہی میں شاید کوئی کمی ہو گی
خوشی ملی بھی تو زاہد اداسیاں اوڑھے
کبھی کسی کو نہ ایسی خوشی ملی ہو گی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






