میرے لبوں کو تو عادت ہے مسکرانے کی
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanچمن نہیں ہیں مری زندگی میں صحرا ہیں
بتاؤں کیسے مجھے مشکلات کیا کیا ہیں
مرے لبوں کو تو عادت ہے مسکرانے کی
چھپائے دل میں مگر میں نے غم کے دریا ہیں
میں اپنے گیتوں کو اب لے بھی دے نہیں سکتا
کہ میری طرح مرے سر بھی آج تنہا ہیں
کبھی تھی ایک حقیقت کہ تجھ سے ملنا تھا
اور اب تو خواب ہی تیرے ترا نظارہ ہیں
مجھے رلا کے تو رویا تو اس سے کیا حاصل
کیا تیرے آنسو مرے درد کا مداوا ہین ؟
ہوں ان کے ساتھ بہت خوش ہے گرچہ تنہائی
کہ میرے شعر ہی میری حسین دنیا ہیں
خوشی پہ ہو یا کسی غم کے موقع پر کوئی
ہماری ساری ہی رسمیں محض دکھاوا ہیں
غریب خانہ بدوشوں سے پیار کر زاہد
یہ آخرت میں ترے بہترین وکلا ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






