میرے لبوں کو تو عادت ہے مسکرانے کی

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistan

چمن نہیں ہیں مری زندگی میں صحرا ہیں
بتاؤں کیسے مجھے مشکلات کیا کیا ہیں

مرے لبوں کو تو عادت ہے مسکرانے کی
چھپائے دل میں مگر میں نے غم کے دریا ہیں

میں اپنے گیتوں کو اب لے بھی دے نہیں سکتا
کہ میری طرح مرے سر بھی آج تنہا ہیں

کبھی تھی ایک حقیقت کہ تجھ سے ملنا تھا
اور اب تو خواب ہی تیرے ترا نظارہ ہیں

مجھے رلا کے تو رویا تو اس سے کیا حاصل
کیا تیرے آنسو مرے درد کا مداوا ہین ؟

ہوں ان کے ساتھ بہت خوش ہے گرچہ تنہائی
کہ میرے شعر ہی میری حسین دنیا ہیں

خوشی پہ ہو یا کسی غم کے موقع پر کوئی
ہماری ساری ہی رسمیں محض دکھاوا ہیں

غریب خانہ بدوشوں سے پیار کر زاہد
یہ آخرت میں ترے بہترین وکلا ہیں

Rate it:
Views: 1583
22 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL