بھولتا ضرور گر ہوتا بھلانے کے قابل

Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usa

بھولتا ضرور گر ہوتا بھلانے کے قابل
آنسوں روکتا گر ہوتے درد چھپانے کے قابل

بلبل دل تجھے جھولا جھولاتا ضرور میں
اگر شاخ گل ہوتی بوجھ اٹھانے کے قابل

تیر خنجر سے خود کو بچایا پھرتی کے ساتھ
تیر نظر سے نہ تھے خود کو بچانے کے قابل

جیسے ہی گزرے گلستاں سے پکڑ لیا دامن
چھوڑ دو کانٹوں ہم کہاں ستانے کے قابل

صحرا میں ان کی آنکھوں کے وحشت سے بھرے ہم
اب رہے تمہیں کیا دیکھانے کے قابل

جو دل پے گزرتی ہے قلزم دل ہی جانتا ہے
ہم تو کچھ رہے نہ بتانے کے قابل

Rate it:
Views: 435
06 Sep, 2010