تحریک انصاف
Poet: hasanpurki By: M.Hassan, Karachiآزما چکا ہوں سب کو اب تجھ کو آزماوں گا
سب نے دیا ہے دھوکا تو کہیں بدل نہ جانا
یہ جو لوگ آرہے ہیں تیری پارٹی میں شامل ہونے کو
دیکھو خیال رکھنا ہو نہ ان میں کوئی مجرم
جو قوم کا مجرم ہو اسکی سزا یہی ہے
کردو اسے جدا تم انکی صدا یہی ہے
کرلو اگر کسی مجرم کو تم انصاف شامل
عوام تم سے ہوگا ناراض اور تمھیں کچھ نہ ہوگا حاصل
تمام رنگ و نسل کے بتوں کو تم ہستی سے مٹا دینا
ہے یہی پیغام اصل میں اسلام کا لوگوں کو بتا دینا
مجرم کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہی ہے اسلام کا اصل مقصد
جو ان کو تحفظ دے وہ اسلام اور انسانیت کے ہیں اصل دشمن
خبردار کسی مجرم کو تحریک انصاف میں گھسنے نہ دینا
ورنہ ہوگا تیرا بھی بیڑا غرق جیسے اوروں کا ہو رہا ہے
اب قوم مجرموں کو نہ دے گی پناہ کبھی
جو بدلتے ہیں ہر لمحہ بھیس پارٹیوں کی
پہنچی ہیں اب قوم میں شعور و آگہی اپنے عروج پر
اب جو بھی ان کے زد میں آئیگا ہوگی بربادی اسی کی
خدارا تحریک انصاف کی اس نام کا بھرم رکھنا
عوام کے جذبات کی قدر کرنا اور اپنی آنکھیں کھلئ رکھنا
کردی ہے میڈیا نے عوام کو اتنا بیدار
اب کوئی چال چل نہ سکے گا ہوشیار
کبھی تم نے انکو زاتوں میں بانٹا
کبھی تم نے انکو زبانوں میں بانٹا
کبھی تم نے انکو علاقوں میں بانٹا
کبھی تم نے انکو مذہب میں بانٹا
کبھی تم نے انکو مسلک میں بانٹا
اب نہ چلے گی کوئی چال آجکل
کوئی مولوی کوئی علامہ نہ انکا لیڈر آجکل
ایک کلین شیو مرد آہن ہےبس انکا لیڈر آجکل
جو نہ بکے گا نہ جھکے گا کسی مجرم کے آگے
حق و انصاف کی جنگ وہ لڑے گا صرف عوام کے خاطر
ہیں عوام کا ایک سیلاب ان کے پیچھے آج کل
جب تک نہ آئے انقلاب یہ طوفان نہ ٹلے گا آج کل
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






