ترے پند و نصیحت محتسب ! وہ کیا سمجھتے ہیں
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi ترے پند و نصیحت محتسب ! وہ کیا سمجھتے ہیں
قیامت کو جو ان کا وعدہ ء فردا سمجھتے ہیں
نہیں ہے احتیاج لب کشائی روبرو ان کے
کہ اہل دل، زبان دیدہ ء بینا سمجھتے ہیں
جو گل کے آئنے میں دیکھ سکتے ہیں رخ گلشن
وہ اربان نظر، قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں
کوئی درپردہ کس سے چل رہا ہے کون سی چالیں
سمجھ ہر چند ناقص ہے، مگر اتنا سمجھتے ہیں
نہ پوچھو کچھ کہ کیا کچھ دے دیا ہے دینے والے نے
بڑا ہو لاکھ کوئی ، ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں
بہ ظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گل فشانی پر
وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں
ترے دھوکے میں آنے کے نہیں ہم اے نفاق آرا
ترے برتاؤ کو ہم خوب اے دنیا ! سمجھتے ہیں
نظر ان کی نہیں اٹھتی سر محفل مری جانب
کہ وہ میرے لب خاموش کا منشا سمجھتے ہیں
جو نکلیں جستجو کا شوق لے کر راہ جاناں میں
وہ ہر منزل کو اپنے پاؤں کا چھالا سمجھتے ہیں
قیامت سر پہ جو ٹوٹے ، مصیبت دل پہ جو آئے
حقیقت میں اسے ہم مرضی ء مولٰی سمجھتے ہیں
لگا دی تہمت بادہ کشی ان پر بھی واعظ نے
نصیر ! انکی نظر کو جو مئے ومینا سمجھتے ہیں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






