تمہاری یاد کا یہ سلسلہ رہا ہے کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغبارِ راہ میں اب بھی بلا رہا ہے کوئی
نجانے کیوں وہ بہت یاد آ ر ہا ہےکوئی
مجھے امید کہ مہکے گا میرا پھر آنگن
تمہاری یاد کا یہ سلسلہ رہا ہے کوئی
عجیب بات ہے وہ آج پھر نہ پڑھ سکے
مری وفا کا یہی تو صلہ رہا ہے کوئی
تری گلی میں نہ جاؤں گی کون کہتا ہے
تری گلی کا یہ جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی
کوئی بتائے کہ سپنے وہ کیسے چور ہوئے
درِ حیات میں اترا سجا رہا ہے کوئی
رہو گے جس کے اندھیروں میں روشنی بن کے
وہی چراغ تمھارا بجھا رہا ہے کوئی
یہاں تو لوگ بچھڑتے ہیں عمر بھر کے لیے
ہزار بار کسی کا دغا رہا ہے کوئی
غریبِ شہر تو گمنام مر گیا وشمہ
امیرِ شہر ہی تو یہ خفا رہا ہے کوئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






