تمہیں کیا معلوم
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aتمہیں کیا معلوم
میری رات کیسے گزرتی ہے
میری سوچیں میرے خیال
قربت کے لمحوں کو یاد کر کر کے
کیسے آہیں بھرتے ہیں
شب ڈھلے میری آنکھوں میں
کیسے ستارے چمکتے ہے
وہ نجانے کونسے موتی ہرتے ہیں
جو میرے چہرے پر گرتے ہے
میں حال سناؤں تو کس کو سجنا
اب تو ہر کسی سے
طعنوں کے تحفے ملتے ہے
میں تھک گئی ہوں راہ تکتے تکتے
میری ُامیدوں کے چراغ
بجھتے جاتے ہے
جب تمہیں دیکھتی ہوں
رقابیوں کے ساتھ
تو تم بہت خوش نظر آتے ہو
لیکن یہ کیا کہ تمہارے چہرے سے
مجھے درد ظاہر ہوتا ہے
لیکن تمہاری ُاس خوشی کا
مجھ پر کتنا درد ہوتا ہے
جب اروں کے ساتھ تم خوشی مناتے ہو
میں تمہیں دیکھ کر چپ چاپ روتی ہوں
لیکن تمہیں کیا معلوم
تم تو بہت رہتے ہو
تم تو مجھے دیکھ بھی نہیں پاتے ہو
لیکن کیا میری یاد یا کوئی بات
تمہیں یاد آتی ہے
تمہیں ستاتی ہے
شاید بھولے سے میری پاگل نادان
باتیں تمہیں بہت ستاتی ہوں
جنہیں سوچتے سوچتے تم کھو جاتے ہو
لیکن یہ سارے وہم میرے اپنے ہے
تمہیں کیا معلوم
کہ میرا دن کیسے ڈھلتا ہے
میری رات کیسے گزرتی ہے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






