تم بھی اپنی نگاہیں اٹھا کر تو دیکھو
ان آنکھوں میں آنکھیں ملا کر تو دیکھو
لوٹا دیں گے سارے زمانے کی خوشیاں
کبھی ہمیں اپنا غم ذرا بتا کر تو دیکھو
تمہیں پر لوٹا دیں گے جان اپنا ایمان ہم
دوست کبھی تو تم ہمیں آزما کر تو دیکھو
دیکھنا چلےآئیں گے عشق کی آگ پر ہم
کبھی دل سے ہم کو بلا کر تو تم دیکھو
ہو معلوم تم کو بھی کہ محبت ہے چیز کیا
ذرا ہم کو تم اپنا کبھی بنا کر تو دیکھو
غرضِ ہستی میں تو بے چینی مقدر ہو گی
درد سینے میں کوئی غیر سجا کر دیکھو